پاکستان

پاکستان/cate1

انٹرنیشنل

انٹرنیشنل/cate2

کھیل

کھیل/cate4

انٹرٹینمنٹ

انٹرٹینمنٹ/cate5

ویڈیوز

ویڈیوز/cate6

آج کی خبریں

”بیرونی مداخلت سے آئی حکومت عوام کیلیے فیصلے نہیں کر سکتی“ | محسن دیجیٹل نیوز

کوئی تبصرے نہیں

پاکستان تحریک انصاف کے رہنما اسد عمر کا کہنا ہے کہ یہ حکومت اپنے فیصلوں میں آزاد نہیں، جو حکومت بیرونی مداخلت سے آئی ہو عوام کے لیے فیصلے نہیں کر سکتی۔

وزیر اعظم شہباز شریف کے قوم سے خطاب پر ردعمل دیتے ہوئے اسد عمر نے کہا کہ وزیر اعظم نے اپنے خطاب میں مدت سے متعلق کوئی بات نہیں کی، مریم اورنگزیب تو مدت پوری کرنے کی قوم کو دھمکی دے رہی تھیں، موجودہ حکومت کو پتہ ہے پہلے دن ہی اس کو عوام نے مسترد کر دیا تھا، قوم کو پتہ ہے بیرونی طاقت اور لوگوں کے ضمیروں کو خرید کر یہ حکومت آئی، یہ لوگ حکومت کرنے کی صلاحیت ہی نہیں رکھتے۔

اسد عمر نے کہا کہ یہ حکومت ملک کو دلدل میں پھنساتی چلی جا رہی ہے، مراسلے کی تصدیق کرنے والے قومی سلامتی کمیٹی اجلاس میں شہباز شریف بھی تھے، قومی سلامتی کمیٹی کے دونوں اجلاسوں میں مداخلت کی تصدیق کی گئی تھی، مفتاح کہتے تھے تیل کی قیمت 137 روپے سے ایک روپے نہیں بڑھائیں گے، مشکل  فیصلے عمران خان نے کیے تھے کہ آئی ایم ایف کے سامنے نہیں لیٹیں گے۔

پی ٹی آئی رہنما نے کہا کہ عمران خان نے کہا تھا عوام پر بوجھ نہیں ڈالوں گا ہم روس سے تیل لیں گے، انہوں نے تو شاہی فرمان جاری کر دیا کہ پیٹرول کی قیمت 30 روپے بڑھا دو، حکومت ان سے سنبھالی نہیں جا رہی، روپے کی قدر گرتی جا رہی ہے، مقصود چپڑاسی کے اکاؤنٹ کے ذریعے جو پیسے آئے وہ ہی خزانے میں جمع کرادیں، عمران خان جس قیمت پر آٹا چھوڑ کر گئے تھے اسی قیمت پر ہی لے آئیں۔

انہوں نے کہا کہ یوٹیلٹی اسٹور میں قیمتیں کم کرنے کے اعلان سے بے وقوف بنا رہے ہیں، کرپشن پر لیکچر شہباز شریف کے منہ سے اچھا نہیں لگتا، مقصود چپڑاسی والے پیسے خزانے میں جمع کرائیں پھر کرپشن پر لیکچر دیں، عمران خان پر انہوں نے ہر قسم کا الزام لگا کر دیکھ لیا، عمران خان ملک کی خدمت کیلئے آئے، ایک روپے کی کرپشن نہیں کی، عمران خان نے اپنے کسی رشتے دار کو عہدہ نہیں دلوایا، عوام امپورٹڈ حکومت کو مسترد کر چکی ہے۔

اسد عمر نے کہا کہ ن لیگ کے سیاستدان بھی کہتے ہیں کہ ہماری سیاست غرق ہو رہی ہے، لولی لنگڑی، امپورٹڈ، بھکاری حکومت سے ن لیگی سیاستدان بھی تنگ ہیں، عمران خان پر الزامات ن لیگ نے لگائے تھے اور سپریم کورٹ لے گئے تھے، عمران خان نے سپریم کورٹ میں 40 سال پرانی دستاویزات تک دکھائیں، عمران خان نے یہ نہیں کہا کہ میرے والد یا بچوں سے پوچھیں، عمران خان کوئی قطری خط بھی نہیں لایا، عمران خان پر کیس چلا اور آخر میں سپریم کورٹ نہیں صادق اور امین قراردیا۔

الیکشن ترمیمی بل کی منظوری پر اوورسیز فورم کا سخت ردعمل | محسن دیجیٹل نیوز

کوئی تبصرے نہیں

پارلیمنٹ میں الیکشن ترمیم بل کی منظوری پر پاکستان اوورسیز فورم نے سخت ردعمل کا اظہار کیا ہے۔

چیئرمین پاکستان اوورسیز فورم شاہد رضا رانجھا نے اے آر وائی نیوز سے گفتگو میں کہا کہ سمندر پار پاکستانیوں کے حقوق پر ڈاکہ ڈالا گیا، یہ قانون سازی عجلت میں کی گئی۔

شاہد رضا رانجھا نے کہا کہ حکومت کے اس اقدام کی پر زور مذمت کرتے ہیں، اقدام اوورسیز پاکستانیوں کی پیٹھ میں چھرا گھونپنے کے مترادف ہے، سپریم کورٹ اس پر ازخود نوٹس لے۔

انہوں نے کہا کہ  اوورسیز پاکستانیوں کے ووٹ کے حق پر ڈاکہ ڈالا گیا، عجلت میں بل کی منظوری سمجھ سے بالا تر ہے، بیرون ملک پاکستانی ہر سال 31 ارب روپے سے زائد زرمبادلہ  بھیجتے ہیں۔

خیال رہے کہ قومی اسمبلی کے بعد سینیٹ سے بھی الیکشن ایکٹ اور نیب قوانین میں ترامیم کے بل کثرت رائے سے منظور کرلیے گئے ہیں۔

چیئرمین سینیٹ صادق سنجرانی کی زیر صدارت اجلاس میں وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے الیکشن ایکٹ اور نیب قوانین میں ترامیم کے بل پیش کیے جس پر اپوزیشن نے احتجاج کیا اور ”امپورٹڈ حکومت نامنظور“ کے نعرے لگائے۔

اپوزیشن ارکان نے ایجنڈے کی کاپیاں پھاڑ دیں۔ اجلاس میں چیئرمین سینیٹ نے بل کی منظوری کے لیے ایوان کی رائے لی جس کے بعد نیب ترمیمی بل اور الیکشن ایکٹ ترمیمی بل 2022 کثرت رائے منظور کرلیے گئے۔ اپوزیشن کے شور شرابے میں بل کی منظوری دی گئی اس سے قبل بلوں پر تحریک منظور کی گئی تھی۔

اپوزیشن لیٖڈر شہزاد وسیم نے اظہار خیال کرتے ہوئے کہا یہ بل متعلقہ کمیٹی کو بھجوایا جائے، اوورسیز ووٹرز کے حق پر ڈاکا ڈالنے نہیں دیں گے، اوورسیز ووٹر قوم کے لیے اہمیت کے حامل ہیں۔

وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے بتایا کہ اوورسیز کا ووٹ ختم کیا گیا ہے اور نہ کیا جائے گا، بل کے ذریعے اوورسیز کے حقوق واپس نہیں لیے گئے، بل میں الیکشن کمیشن کو پابند کیا گیا کہ وہ اوورسیز کو ووٹ کا حق دے۔

’معیشت کو چلانے کے لیے ہمیں بلائیں سب سمجھا دیں گے‘ | محسن دیجیٹل نیوز

کوئی تبصرے نہیں

اسلام آباد: سابق وزیر خزانہ شوکت ترین کا کہنا ہے کہ ان کو سمجھ نہیں آرہی آگے کیسے جانا ہے معیشت کو چلانے کے لیے ہمیں بلائیں سب سمجھا دیں گے۔

اے آر وائی نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے سابق وزیر خزانہ شوکت ترین نے کہا کہ ان کے ہاتھ پاؤں پھولے ہوئے ہیں اس حکومت کے دو، دو وزیر خزانہ ہیں ایک یہاں اور دوسرا لندن میں ہے دونوں کی باتیں ایک دوسرے سے متصادم ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ہمارا آئی ایم ایف سے سوا 2روپے فی یونٹ بجلی کی قیمت بڑھانے پرمعاہدہ ہوا تھا یہ لوگ 7روپے فی یونٹ بجلی مہنگی کرنے کا معاہدہ کرکے آگئے ہیں اب 7 روپے بجلی پر فی یونٹ بڑھنے سے عام آدمی کا کیا حال ہوگا۔

شوکت ترین نے کہا کہ ہم نےصرف 4 ماہ کیلئے روسی تیل سے ٹارگٹڈ سبسڈی دینی تھی انہوں ںے جنرل دے دی ہے ہم روس سے تیل لینے کے بعد 42 روپے فی لیٹر سستا دیتے۔

مزید پڑھیں: ‘امریکی سازش نہیں ہوئی، دروازے کھولے گئے پھلانگے نہیں گئے’

سابق وزیر خزانہ نے کہا کہ پیٹرول پر30 روپے اضافے سے ہر چیز مہنگی ہوگی اور مہنگائی کی وجہ سے شرح سود میں بھی مزید اضافہ ہوگا۔

انہوں نے کہا کہ شہبازشریف کے اردگرد کے لوگ انہیں غلط اعدادوشمار دیتے ہیں ان کوسمجھ آنی چاہیے مجموعی قرض کا 80فیصدنہیں لیاگیا قرض 18ٹریلین ضرور ہے پرمعیشت بھی 72 فیصد بڑھی اور ہمارےدورکا قرض 64 فیصد تھا۔

شہباز شریف نے عمران خان کی سبسڈی کو سیاسی مفاد قرار دے دیا | محسن دیجیٹل نیوز

کوئی تبصرے نہیں

اسلام آباد: وزیراعظم شہباز شریف نے عمران خان کی سبسڈی کو سیاسی مفاد قرار دے دیا۔

اے آر وائی نیوز کے مطابق وزیراعظم شہباز شریف نے عمران خان کی سبسڈی کو سیاسی مفاد قرار دیا اور قوم سے خطاب کے دوران خود بھی سبسڈی کا اعلان کردیا۔

شہباز شریف نے کہا کہ عمران خان نے سیاسی فائدے کے لیے سبسڈی تھی، وزیراعظم نے خود بھی قوم سے خطاب کے دوران 28 ارب کی سبسڈی کا اعلان کیا۔

وزیر اعظم نے کہا کہ تیل پیدا کرنے والے ممالک سے لے کر ترقی یافتہ ممالک اس شدید معاشی صورتِ حال سے دوچار ہیں ہم نے نہیں گزشتہ حکومت نے اپنے سیاسی فائدے کے لیے پیٹرولیم پر سبسڈی کا اعلان کیا۔

مزید پڑھیں: وزیر اعظم نے ریلیف پیکج کا اعلان کردیا

شہباز شریف نے کہا کہ 28 ارب روپے سے نئے ریلیف پیکج کا آغاز کر رہے ہیں اور فوری طور پر ایک کروڑ 40 لاکھ غریب خاندان کو 2 ہزار روپے دیے جا رہے ہیں یہ گھرانے ساڑھے 8 کروڑ آبادی پر مشتمل ہیں۔

انہوں نے کہا کہ یہ امداد بینظیر انکم سپورٹ پروگرام مالی امداد کے علاوہ ہے ہم آئندہ مالی سال کے لیے اس ریلیف پیکج کو بجٹ میں شامل کریں گے۔

‘امریکی سازش نہیں ہوئی، دروازے کھولے گئے پھلانگے نہیں گئے’ | محسن دیجیٹل نیوز

کوئی تبصرے نہیں

وزیراعظم شہبازشریف نے رجیم تبدیلی کے لیے امریکی سازش کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ جمہوری تقاضےکے ذریعے تبدیلی کویقینی بنایا گیا پہلی مرتبہ دروازے کھولے گئے پھلانگے نہیں گئے یہ عوام کی فتح ہے۔

مذاکرات کی دعوت

قومی سے خطاب میں وزیراعظم نے تمام سیاسی جماعتوں اور مخالفین کو مذاکرات کی دعوت دے دیتے ہوئے کہا کہ سیاسی جماعتوں سے مشاورت کا آغاز کر رہا ہوں ایسی پالیسی بنارہےہیں تاکہ آئندہ کوئی بھی حکومت معیشت کوٹریک سے نہ اتار سکے عہدکرتےہیں مل کرامانت اوردیانت کیساتھ شبانہ روز محنت کریں گے میں اور میری کابینہ ہر فیصلے سے آپ کی عدالت میں حاضرہوں گے سیاسی مخالفین کیلئے پیغام ہےآئیں پاکستان کو ایسا ملک بنا دیں جس میں اختلاف رائے کو دشمنی نہ سمجھاجائے آئین پاکستان کو ایسا ملک بنا دیں جہاں تنقیدکودشمنی نہ سمجھاجائے۔

ریلیف پیکیج

شہباز شریف نے ریلیف پیکیج کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ 28 ارب روپے سے نئے ریلیف پیکج کا آغاز کر رہے ہیں فوری طور پر ایک کروڑ 40 لاکھ غریب خاندانوں کو 2 ہزار روپے بے نظیرانکم سپورٹ پروگرام کے تحت دیے جا رہے ہیں یہ گھرانے ساڑھے 8 کروڑ آبادی پر مشتمل ہیں، یہ امداد بینظیر انکم سپورٹ پروگرام مالی امداد کے علاوہ ہے، آئندہ مالی سال کے لیے اس ریلیف پیکج کو بجٹ میں شامل کیا جائے گا۔

امریکی سازش

شہبازشریف نے واضح کیا کہ اقتدار کیلئے نام نہاد سفارتی خط کی سازش تک گھڑی گئی نیشنل سیکیورٹی کونسل نے ایک نہیں دومرتبہ کہاکوئی سازش نہیں ہوئی امریکامیں ہمارےسفیرنےبھی سازش کی کہانی کو یکسر مسترد کر دیا اس کے باوجودایک شخص مسلسل جھوٹ بول رہاہے افسوسناک بات ہے یہ شخص اپنے سیاسی مفاد کیلئے قومی مفاد کو نقصان پہنچا رہا ہے۔

آئی ایم ایف

انہوں نے دوٹوک کہا کہ عوام کی جان ومال کاتحفظ یقینی بنانا حکومت کا فرض ہے اس پر کبھی سمجھوتہ نہیں کریں گے سابق حکومت جن حقائق پرجان بوجھ کرپردہ ڈال رہی ہے وہ آج یاد دلانا چاہتا ہوں آئی ایم ایف سےمعاہدہ آپ نے کیا ہم نےنہیں آئی ایم ایف کی سخت شرائط آپ نےمانی ہم نے نہیں، عوام کومہنگائی کی چکی میں آپ نےڈالا ہم نے نہیں ملک کو تاریخی قرض کے نیچے ڈالا اور عالمی اداروں نے کہا سب سے زیادہ کرپشن آپ کے دور میں ہوئی۔

قرضے، مہنگائی

شہبازشریف کا کہنا تھا کہ کوئی یہ سمجھتا ہے کہ اس کی ضد اور گھمنڈ آئینی اداروں سے بڑا ہے تو یہ اس کی بھول ہے ہم نےحکومت سنبھالی تومہنگائی عروج پرتھی کاروبار،روزگار،معاشی سرگرمیاں ختم ہو کر رہ گئی تھیں ایک طرف مہنگائی کی آگ لگائی گئی دوسری طرف پاکستان پرقرض بڑھایا گیا گزشتہ 4 سال میں پاکستان پر قرض کے بوجھ میں 20ہزار ارب ڈالر کا اضافہ ہوا گزشتہ4سال میں لیا گیا قرض مجموعی قرض کے80 فیصد ہے بجٹ خسارہ تاریخ کا بلندترین چھوڑا گیا صرف اسی سال اتناخسارہ کیاگیاجس کی ماضی میں مثال نہیں ملتی۔

لوڈشیڈنگ

انہوں نے بتایا کہ گزشتہ حکومت نےمجرمانہ غفلت کرتےہوئےایندھن کا بندوبست کیانہ پلانٹس مرمت کرائے گزشتہ حکومت کی مجرمانہ غفلت کی وجہ سےعوام کو لوڈشیڈنگ کاعذاب سہناپڑا ہم نے دل پر پتھر رکھ کر گزشتہ روز پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ کیا تیل پیدا کرنے والے ممالک سے لے کر ترقی یافتہ ممالک اس شدید معاشی صورتحال سے دوچار ہیں گزشتہ حکومت نے اپنے سیاسی فائدےکیلئے پیٹرولیم پر سبسڈی کا اعلان کیا ہم نے اپنے سیاسی مفادکوقومی مفاد پر قربان کرنا قومی فرض جانا ہے ہمارا فیصلہ پاکستان کو معاشی دیوالیہ پن سے بچانا ناگزیر تھا معاشی بحران میں پاکستان کو سابقہ حکومت نے پھنسایا ہے۔

حکومت کڑا امتحان

وزیراعظم نے خطاب کے آغاز میں کہا کہ چند ہفتے قبل جس ذمہ داری کیلئے منتخب کیا گیا یہ میرے لیے اعزاز ہے ایسے مرحلے پر وزیراعظم کا منصب سنبھالنےکسی کڑےامتحان سےکم نہیں، ملک کو گزشتہ 4 سال کےسنگین اقدامات سے بچانا ناگزیر ہو گیا ہے اتحادی جماعتوں اور نوازشریف کا تہہ دل سے شکریہ ادا کرتا ہوں شکرگزار ہوں کہ مجھ پر مکمل اعتماد کا اظہار کیا گیا۔

دروازے کھلے، پھلانگے نہیں گئے

وزیراعظم نے کہا کہ عوام نے مطالبہ کیا کہ نااہل اور کرپٹ حکومت سےجان چھڑائی جائے تمام اپوزیشن جماعتوں نے لبیک کہا اور جمہوری تقاضےکے ذریعے تبدیلی کویقینی بنایاگیا پہلی مرتبہ دروازے کھولے گئے پھلانگے نہیں گئے یہ عوام کی فتح ہے۔

انہوں نے کہا کہ ہم نےحکومت سنبھالی توہرشعبہ تباہی کی داستان سنا رہا تھا ایسی تباہی میں نے کبھی نہیں دیکھی جو سابق حکومت پونے 4 سال میں چھوڑ گئی یہ ہی وجہ ہےکہ ہم نےپاکستان کو بچانے کا چیلنج قبول کیا ہمارے سامنے واضح تھاملک کو تباہی سے بچانے کیلئے محنت درکار ہو گی۔